|
میں
داخل ہو گیا۔ اس سیلابی ریلے نے ڈیرہ اللہ یار اور جھٹ پٹ شہروں میں
تباہی پھیلاتے ہوئے دوسرے علاقوں کارخ کرلیا ہے۔ دوسری جانب نیشنل
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ندیم احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان
میں دو سیلابی ریلوں کے بعد شمالی علاقہ جات میں ایک تیسرا ریلا تشکیل
پا رہا ہے اور پاکستان کے لیے اگلے دو سے تین ہفتے نہایت اہم ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور وہ وزیر
اعظم اور صدر سے ملاقات کر رہےہیں۔
سکھر، گڈو پر سیلابی ریلا اور تیسرے ریلے کا خدشہ محکمہ موسمیات کے
مطابق گڈو اور سکھر بیراج سے انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزر
رہا ہے۔ اس سیلابی ریلے سے سندھ کے آٹھ شہروں کو خطرہ ہے۔ ان شہروں میں
خیرپور، جیکب آباد، گھوٹکی، سکھر، لاڑکانہ، نوابشاھ، حیدر آباد اور
نوشہرو فیروز شامل ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گڈو کے مقام پر پندرہ سے سترہ اگست کے درمیان
دس لاکھ سے گیارہ لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزرے گا۔ اور سکھر بیراج
کے مقام سے پندرہ اور اٹھارہ اگست کے درمیان دس اور گیارہ لاکھ کیوسک
کا سیلابی ریلا گزرے گا۔ نصیر آباد اور جعفر آباد دریائے سندھ سے
سیلابی پانی کا ایک بڑا ریلا بلوچستان کے ضلع جعفر آباد سے گزر رہا ہے
جس کے باعث جعفر آباد کے مرکزی شہر ڈیرہ اللہ یار اور جھٹ پٹ زیر آب آ
گئے ہیں اور ان علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں افراد نے بلوچستان کے
دوسرے شہروں کا رخ کیا ہے۔
جیکب آباد شہر جس میں شہباز فضائی اڈہ بھی واقع ہے کو بچانے کے لیے
کوئٹہ بائی پاس سے بند کو کاٹا گیا جس کے باعث سیلابی ریلا نصیر آباد
اور جعفر آباد میں داخل ہو گیا۔ اس سیلابی ریلے نے ڈیرہ اللہ یار اور
جھٹ پٹ شہروں تباہی پھیلاتے ہوئے دوسرے علاقوں کارخ کرلیا ہے۔
سندھ سے ملحقہ بلوچستان کے دو اضلاع نصیر آباد اور جعفرآباد سے بڑے
پیمانے پر نقل مکانی جاری ہے۔ یہ نقل مکانی جمعہ کی رات کواس وقت شروع
ہوئی جب کمشنر نصیر آباد ڈویژن شیر خان بازئی نے نصیر آباد ڈویژن میں
ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ڈیرہ اللہ یار کے شہریوں کو فوری طور پر شہر
خالی کرنے کا حکم دیا۔ جس کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد ڈیرہ مراد
جمالی، سبی اور بلوچستان کے دیگرعلاقوں کی طرف نقل مکانی شروع کی۔
|