|
عمرعبداللہ کی طرف ایک نوجوان نے جوتا پھینکا اور آزادی
کا نعرہ لگایا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ نوجوان معطل کیا گیا پولیس اہلکار ہے جس کا
دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔ جوتا عمرعبداللہ کے قریب گرا جس کے بعد
سرینگر کے بخشی سٹیدیم میں کھلبلی مچ گئی۔
اہم شخصیات (وی آئی پی) کے لیے مخصوص گیلری میں موجود اس نوجوان کو
وزیراعلیٰ کی حفاظت پر مامور سپیشل سکیورٹی گروپ کے اہلکاروں نے پکڑ
لیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔
سری نگر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ پولیس حکام کا کہنا
ہے کہ جوتا پھینکے والا بانڈی پورہ کے اجس گاؤں کے رہائشی عبدالاحد جان
ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالاحد پولیس اہلکار ہے جسے حال ہی مجرمانہ
سرگرمیوں کے لیے اس سال مئی میں گرفتار کیا گیا تاہم اسے ضمانت پر
رہائی ملی۔
حکومت نے لداخ سانحہ کی وجہ سے پہلے تقریب میں طلبہ و طالبات کے
رنگارنگ پروگرام منسوخ کردیے تھے۔ لیکن یہ تاریخی واقعہ حکومت کے تمام
وزرا، اعلیٰ فوجی، پولیس و سِول افسران اور میڈیا نمائندوں کی بھاری
تعداد کے سامنے پیش آیا۔
جوتا پھینکنے کے وااقعہ کے فوراً بعد وزیراعلیٰ سٹیج کی طرف گئے اور
تقریر شروع کی۔ انہوں نے کہا ’مجھے اس واقعہ پر کوئی افسوس نہیں ہے۔
شکر ہے اس نوجوان نے جوتا پھینکا پتھر نہیں پھینکا۔‘
سینئر صحافی علی محد صوفی کا کہنا ہے کہ اُنیس سو ساٹھ کی دہائی سے ہی
مقامی نوجوان اس روز سٹیڈیم کے باہر پتھراؤ کرتے تھے جنہیں پولیس منتشر
کرتی تھی۔ ’اُنیس سو تراسی میں نوجوانوں نے سٹیدیم کے باہر پیٹرول بم
بھی پھینکا تھا۔ |