|
ٹوٹنے اور شہاب ثاقب کے وہ منظر دیکھے
جو دلکش تو ہوتے ہی ہیں لیکن اس بار انتہائی دلکش تھے۔
امریکہ میں خلائی امور کے ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ وہ اسی شہاب ثاقب
فی گھنٹہ کی توقع کر رہا تھا۔
اس امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ ’آسمان پر ہر سال شہابِ ثاقب کا یہ منظر
دیکھنے والوں کے لیے پہلی تاریخ کے تھوڑی ہی دیر کے لیے دکھائی دینے
والے چاند نے شہاب ثاقب کے خوشنما منظر کی راہ ہموار کر دی تھی‘۔
ان منظر کو نہ صرف یورپ اور امریکہ میں آسمان کا مشاہدہ کرنے والوں نے
دیکھا بلکہ تصویرین بھی بنائیں۔
خلانوردی کی برطانوی ایسوسی ایشن سے وابستہ جان میسن نے بی بی سی کو
بتایا ہے کہ موسم بھی ان لوگوں کے لیے مدد گار ثابت ہوا جو آسمان پر ہر
سال پیدا ہونے والے ان منظروں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سلسلہ یوں تو ہفتے بھر جاری رہتا ہے لیکن اس بار
پہلے دو دنوں ہی میں انتہائی چمک دار ستاروں کو ٹوٹتے اور دمدار ستاروں
کو گرتے ہوئے دیکھا گیا‘۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شہاب ثاقب کے یہ مناظر ان دم دار ستاروں کے
ملبے کے نتیجے میں دکھائی دیتے ہیں جو سورج کے گرد باقاعدہ مدار بناتے
ہیں یہ ملبہ گیسوں اور منجمد برفیلے کنکروں پر مشتمل ہوتا ہے اور جب دم
دار ستارے گزرتے ہیں تو ان کی دم سورج کی مخالف سمت نکلتی اور پھیلتی
ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
|